بپر جوائے کراچی سے بپر جوائے کراچی سے 340 کلومیٹر دور: پاکستان میں 64 ہزار سے زیادہ جبکہ انڈیا میں 47 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل

  • بپر جوائے کراچی سے 340 کلومیٹر دور: پاکستان میں 64 ہزار سے زیادہ جبکہ انڈیا میں 47 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل


پاکستان کے صوبہ سندھ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق سمندری طوفان بپر جوائے کے پیش نظر ساحلی علاقوں سے 64 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ انڈین ریاست گجرات میں بھی 47 ہزار افراد کو طوفان کے راستے میں آنے والے علاقوں سے نکالا گیا ہے۔

 

  • بلوچستان کے سمندری طوفان کے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ نہیں: پی ڈی ایم اے



  • بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل جہانزیب خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کی حد تک سمندری طوفان سے بہت زیادہ خطرہ نہیں ہے جس کے باعث اب تک یہاں کسی علاقے سے آبادی کا انخلا نہیں کیا گیا ہے۔
    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سمندری طوفان سے خطرہ زیادہ نہیں ہے تاہم دونوں ساحلی اضلاع حب اور گوادرمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں موجود ہیں۔
    انھوں نے بتایا کہ ضلع گوادر میں اورماڑہ اور سربندر میں پانی زیادہ ہے لیکن ہوا بند ہونے سے وہاں بھی بہت زیادہ خطرہ نہیں ہے۔

  • ادھر ضلع گوادر کے علاقے اورماڑہ میں بدھ کی صبح ایک مرتبہ پھر سمندری پانی داخل ہوا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر پسنی کے مطابق پانی فش فیکٹری کے علاقے میں داخل ہوا تاہم وہاں لوگوں کے مکانات نہیں ہیں۔
    انھوں نے بتایا کہ اورماڑہ میں جن علاقوں کو زیادہ خطرہ ہے ان میں اڈ گور، طاق اور بل شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اورماڑہ میں خطرات کے باعث مختلف علاقوں میں کیمپ قائم کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک اورماڑہ سے آبادی کا انخلا نہیں ہوا ہے۔
    اسسٹنٹ کمشنر پسنی کے مطابق پاکستانی بحریہ کی مدد سے اورماڑہ میں ماہی گیروں کی ڈیڑھ سو کشتیوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پسنی میں کلمت کے علاقے کو خطرہ ہے جس کی آبادی سات سو نفوس پر مشتمل ہے اور خطرہ بہت زیادہ بڑھ جانے کی صورت میں کلمت سے آبادی کے انخلا کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔


  • بپر جوائے کا رخ تبدیل، جمعرات کی شام کیٹی بندرگاه: محکمہ موسمیات


  • محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر سردار سرفراز کے مطابق بپر جوائے سایکلون نے اب اپنا رخ تبدیل کر کے شمال مشرق کی جانب کر لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ پاکستان میں ٹھٹہ کی تحصیل کیٹی بندر اور انڈیا میں راجستھان سے گجرات تک جمعرات کی شام ٹکرائے گا۔
    سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ بپر جوائے سندھ کے ساحلی علاقوں کی طرف 150 سے 170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے۔ اس کے اردگرد ہوا کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ لہروں کی اونچائی 30 فٹ ہے۔
    ان کے مطابق اس طوفان سے پاکستان میں زیریں سندھ کے تین اضلاع ٹھٹہ، سجاول اور بدین زیادہ خطرے کا شکار ہیں اور جن علاقوں سے یہ سمندری طوفان ٹکرائے گا وہاں پر ساحلی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا هستی ہے۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر اور عمرکوٹ کے اضلاع میں آندھی، گرج چمک، تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارش اور تیز ہواؤں کے جھکڑ چل سکتے ہیں جن کی رفتار 80 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو سکتی ہے۔
    حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طوفان کی وجہ سے دیہی سندھ کے ساحلی علاقوں میں آندھی و گرج چمک کے ساتھ 300 ملی میٹر بارشیں ہوسکتی ہیں جبکہ کراچی میں بدھ کی شام سے بارش کا امکان ہے اور شہر میں 24 گھنٹوں کے دوران 100 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہو سکتی ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post